اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم منافقوں کے بارے میں اور نماز میں، بالخصوص عشا اور فجر کی نماز میں ان کی سستی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آپ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اگر منافقوں کو پتہ ہو جائے کہ ان دونوں نمازوں کو جماعت ميں شامل ہوکر مسلمانوں کے ساتھ ادا کرنے سے کتنا بڑا اجر و ثواب ملتا ہے، تو وہ اسی طرح گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ان دونوں نمازوں ميں شریک ہوں، جس طرح بچے چلنا سیکھنے سے پہلے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بار اس بات کا ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کا حکم دے دیں، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑیوں کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل ہوکر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہیں آتے اور ان کے سمیت ان کے گھروں کو جلا ڈالیں۔ کیوں کہ انھوں نے جماعت میں شامل نہ ہو کر جو گناہ کیا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ لیکن آپ نے ایسا نہيں کیا، کیوں کہ گھروں میں معصوم عورتیں، بچے اور معذور لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کا کوئی گناہ نہیں ہے۔