explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کا دھیان رکھنے اور پابندی سے اس کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ قرآن یاد ہونے کے بعد انسان کے حافظے سے نکل نہ جائے۔ آپ نے اس بات کے اندر تاکید پیدا کرنے کے لیے قسم کھاکر بتایا کہ قرآن اونٹ کے بندھن توڑ کر بھاگنے سے بھی زیادہ تیزی سے انسان کے سینے سے نکل بھاگتا ہے۔ انسان خیال رکھے تو وہ رہتا ہے اور دھیان نہ دے، تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • اگر حافظ قرآن پابندی سے اس کی تلاوت کرتا رہے، تو وہ سینے میں محفوظ رہتا ہے، ورنہ حافظے سے نکل کر چلا جاتا ہے۔
  • پابندی کے ساتھ قرآن پڑھتے رہنے کا فائدہ ایک تو یہ ہے کہ ثواب ملتا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس سے قیامت کے دن انسان کے درجات اونچے ہوتے ہيں۔