مسجد کی طرف جانا اور وہاں سے واپس لوٹنا۔ اگر انسان اس سے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کی امید رکھے تو اسے اس پر اجر دیا جائے گا۔ اس حدیث میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کا گھر مسجد سے دور تھا، اور وہ بہت دور سے مسجد کی طرف آتا تھا اور وہ مسجد کی طرف آتے اور وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتا تھا۔ تو بعض لوگوں نے ان سے کہا اگر آپ ایک گدھا خرید لیں تاکہ اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں اس پر سوار ہو کر آیا کریں، یعنی عشاء اور فجر کی نماز کے اندھیرے میں اور سخت گرمی یعنی گرمی کے موسم میں بالخصوص حجاز میں، جہاں کی فضا بہت گرم ہوتی ہے۔ صحابی نے کہا کہ اگر میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو تو یہ میری خوشی کا باعث نہیں۔ یعنی وہ اس پر خوش ہے کہ اس کا گھر مسجد سے دور ہے اور وہ مسجد تک پیدل چل کر آتا ہے اور پیدل واپس لوٹتا ہے۔ اور اسے اپنے گھر کے مسجد سے قریب ہونے پر خوشی نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا گھر مسجد سے قریب ہوتا تو اس کے لیے ان قدموں کی نیکی نہیں لکھی جاتی۔ اور اس نے یہ بیان کیا کہ وہ مسجد جاتے آتے ان قدموں پر اللہ کے ہاں نیکیوں کی امید رکھتا ہے۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ نے یہ سب ثواب تیرے لیے جمع کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسجد تک آتے جاتے جس چیز کی تم امید رکھتے ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اسے لکھ دیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: ”إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ“ یعنی بلا شبہ تیرے لیے وہ ثواب ہے جس کی تجھے امید ہے۔