حدیث کا موضوع یہ ہے کہ عبادت سے نفس کو تھکانا ناپسندیدہ ہے۔ لہٰذا جب نمازی دورانِ نماز نیند کا غلبہ محسوس کرے تو اسے چاہيے کہ نماز توڑ کر یا پوری کر کے سوجائے اور اپنے نفس کو راحت و آرام پہنچائے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تکان کی حالت میں وہ اپنے آپ پر بد دعا کر بیٹھے۔