حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وتر کی نماز کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا مستحب ہے، تاہم وتر مؤخر کرنے والے کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کی ادائیگی میں احتیاط کیا کرے اور فجر سے پہلے اسے ادا کر لے۔ اس لیے کہ رات کی نماز کا آخری وقت طلوع فجر ہے۔لہٰذا اگر وتر کی ادائیگی سے پہلے فجر طلوع ہوجائے تو اس سے فضیلت فوت ہوجائے گی۔