ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح کے وقت وِتر کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو“۔ صحیح - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وتر کی نماز کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا مستحب ہے، تاہم وتر مؤخر کرنے والے کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کی ادائیگی میں احتیاط کیا کرے اور فجر سے پہلے اسے ادا کر لے۔ اس لیے کہ رات کی نماز کا آخری وقت طلوع فجر ہے۔لہٰذا اگر وتر کی ادائیگی سے پہلے فجر طلوع ہوجائے تو اس سے فضیلت فوت ہوجائے گی۔