ایک شخص سفر کرتا ہوا راستے میں جا رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا اور یوں اس کی پیاس ختم ہوئی۔ جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی کو کھا رہا ہے تاکہ اس میں موجود پانی کو چوس سکے۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ: اللہ کی قسم! اس کتے کو بھی ویسے ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں داخل ہوا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ کنویں سے باہر آکر اس نے کتے کو پانی پلا دیا۔ جب وہ کتے کو پانی پلا چکا تو اللہ نے اس کے اس فعل کو پسند فرمایا اور اس کے بدلے میں اس کی بخشش کرتے ہوئے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو جب یہ حدیث سنائی تو انھوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا چوپایوں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟۔ یعنی کیا یہ بھی اجر و ثواب کا سبب ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجے کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر ہے یعنی ہر تر کلیجے کو سیراب کرنے میں اجر ملتا ہے۔ کلیجے کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اگر پانی نہ ہوتا تو یہ سوکھ جاتا اور جاندار ہلاک ہو جاتا۔ اور ایک روایت میں ہے: بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کے مارے کنویں کے گرد گھوم رہا تھا، لیکن اس کی پانی تک رسائی ممکن نہیں ہوئی، چنانچہ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اسے پانی سے بھرا اور کتے کو پلا دیا لہٰذا اس عمل کے بدلے اللہ نے اس کی مغفرت کردی۔