اس حدیث میں ایک عجیب وغریب قصّے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ سابقہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، بادشاہ نے اس جادوگر کو اپنا خاص مشیر بنا رکھا تھا تاکہ اسے اپنے مقاصد میں استعمال کرے گرچہ وہ دین کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ بادشاہ اپنے ذاتی مقاصد کا خاص دھیان رکھتا تھا اور وہ ظالم بادشاہ تھا جو لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے بھی مجبور کرتا تھا۔ یہ جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں۔ جادوگر نے لڑکے کا انتخاب کیا کیونکہ لڑکا تعلیم حاصل کرنے اہل اور زیادہ مناسب ہوتا ہے اور وہ جب کوئی چیز سیکھتا ہے تو جلدی نہیں بھولتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کیا، چنانچہ اس لڑکے کا گزر ایک دن ایک راہب کے پاس سے ہوا اور اس نے اس کی باتیں سنیں جو اس کو پسند آئیں، کیونکہ یہ راہب یعنی عبادت گزار اللہ کی عبادت کرتا اور صرف اچھی باتیں بولتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی عبادت گزار عالم ہو لیکن اس پر رہبانیت کا غلبہ تھا، اسی لیے اس کا نام راہب پڑا۔ چنانچہ یہ لڑکا جب گھر سے نکلتا اور راہب کے پاس بیٹھتا تو جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو جادوگر اس لڑکے کو مارتا کہ تو دیر سے کیوں آتا ہے؟ لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی اور مار سے بچنے کا نسخہ دریافت کیا، راہب نے کہا کہ جب تو جادوگر کے پاس جائے اور مار کا ڈر ہو تو کہہ دیا کرنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اورجب تو گھر والوں کے پاس جائے اور تاخیر کی وجہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، اس طرح تو دونوں کی ڈانٹ سے محفوظ ہوجائے گا ـــــــ اللہ ہی بہتر جانے ــــــــ راہب نے اس لڑکے کو ایسا کرنے کے لیے کہا جب کہ وہ جھوٹ تھا، شاید اس نے یہ سوچا ہوگا کہ اس میں جو مصلحت پوشیدہ ہے وہ جھوٹ کے نقصان پر غالب ہے، یا پھر اس کا ارادہ توریہ اور معنوی طور پر روکنے کا رہا ہے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور اس قابل ہوگیا کہ وہ راہب کے پاس آتا اور اس کی باتیں سنتا اور پھر جادوگر کے پاس جاتا، جب جادوگر اپنے پاس دیر سے آنے پر اس کو سزا دیتا تو کہتا کہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر لوٹتا اور راہب کے پاس دیر ہوجاتی تو کہتا ہے کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔ ایک دن ایک بہٹ بڑا جانور شیر گزرا اور اس نے لوگوں کا راستہ روک لیا، لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا میں آج آزمانا چاہوں گا کہ جادوگر میرے لیے افضل ہے یا راہب بہترہے، اورپھر ایک پتھر لیا اور کہنے لگا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ میرے لیے بہتر ہے تو اس پتھر سے یہ جانور مرجائے، پھر اس کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مرگیا اور لوگ گزرنے لگے۔ اور لڑکے نے جان لیا کہ راہب کا معاملہ جادوگر کے بالمقابل اس کے حق میں بہتر ہے۔ پھر لڑکے نے راہب کو اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: آج تو مجھ سے افضل ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا،اور اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ (اس لڑکے کا حال یہ تھا کہ) وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفائف لے کراس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحائف جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں شفا دے دے، پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمادی۔پھر اس اندھے آدمی کو لایا گیا جوکہ بادشاہ کا ہم نشین تھا، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور بادشاہ پر ایمان لانے سے انکار کردیا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنے دین سے پھر جائے لیکن لڑکے نے انکار کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ (مشکل حالات میں) انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھرجا، راہب نے انکار کردیا۔ اس پر بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کروادیا۔ پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا، وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھرجا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ، اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کردے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے دھکیل دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو میرے لیے اُن کے بالمقابل کافی ہے، جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچالیا ہے۔پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائےتو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے، لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، چنانچہ وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچا۔بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مارے سکے گا جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے، بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھو اور پھر کہو: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو! چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکادیا، پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا کہ اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا، (یہ دیکھ کر) سب لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پرایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ: جس سے ڈر رہے تھے وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ چنانچہ بادشاہ نے راستوں کے دروازوں پر خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔ پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلادی گئی، بادشاہ نے کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اسے خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کی گود میں اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت (بچے کی وجہ سے) آگ میں کودنے سے پیچھے ہٹی تو بچے نے کہا کہ: اے امی جان صبر کر! اس لیے کہ تو حق پر ہے۔