اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت انبیا کرتے تھے۔ انبیا ان کے سارے کام اسی طرح کرتے تھے، جس طرح حکمراں وسلاطین اپنی رعایا کے کام کرتے ہيں۔ جب بھی بنی اسرائیل کے اندر کوئی بگاڑ پیدا ہوتا، اللہ ایک نبی بھیج دیتا، جو اس بگاڑ کو درست کر دیتا۔ لیکن میری امت میں یہ کام کرنے کے لیے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ میرے بعد خلیفے ہوں، جو بڑی تعداد میں ہوں گے اور ان کے درمیان اختلافات اور جھگڑے بھی رونما ہوں گے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ایسے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ آپ نے جواب دیا: جب ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ سے بیعت کر لی جائے، تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اسے نبھانا پڑے گا، جب کہ دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے۔ اس طرح کی بیعت کروانا حرام ہے۔ دیکھو، خلفا کو ان کا حق دو، ان کی اطاعت کرو اور ان کی جو بات قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو، اسے مانو۔ کیوں کہ وہ جو کچھ تمھارے ساتھ کر رہے ہیں، اس کے بارے میں اللہ ان سے پوچھے گا اور ان سے حساب لے گا۔