ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گود میں صرف تین بچوں نے کلام کیا“۔ یعنی اپنے بچپن کے ابتدائی دنوں میں۔ وہ یہ ہیں: اول: عیسی بن مریم علیہ السلام جو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے، انہوں نے بات کی حالانکہ ابھی وہ گود ہی میں تھے۔ دوم: جریج والا بچہ، جریج ایک عبادت گزار شخص تھے، اللہ تعالی نے انہیں اس تہمت سے بری کیا جسے لوگوں نے ان پر لگانے کا ارادہ کیا تھا اور اس نشانی کو ان کے لیے کرامت بنا دیا یعنی ایک بچے کا ان کی صفائی میں بول پڑنا۔ ہوا یہ کہ جریج اپنے لیے ایک جگہ خاص کیے تھے جہاں وہ تنہائی میں عبادت کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کی والدہ ان کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز میں تھے، اور انہیں پکارا اے جریج!، جریج نے سوچا اے میرے رب ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز، وہ اس تردد میں تھے کہ نماز توڑ دے اور والدہ کا جواب دیں یا پھر نماز مکمل کریں، پس انہوں نے نماز مکمل کی تو ان کی والدہ واپس چلے گئیں۔ دوسرے دن ان کی والدہ ان کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز ہی میں تھے، پھر ویسا ہی ہوا جیسے پہلے دن ہوا تھا، پھر تیسرے دن ان کی والدہ ان کے یہاں آئیں تو وہی سب ہوا جو پچھلے دو دن ہوا تھا، تو ان کی والدہ نے کہہ دیا کہ اے اللہ اس کو اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ایک مرتبہ بنو اسرائیل جریج اور ان کی عبادت کا تذکرہ کر ہے تھے وہاں ایک فاحشہ عورت تھی جس کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو ابتلاء یا فتنہ میں ڈالوں یعنی وہ اپنی نماز چھوڑ دیں گے اور زنا میں مبتلا ہو جائیں گے، پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے زنا کرایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ جب اس نے بچہ جنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے، انہیں نیچے اتارا اور ان کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور ان کو مارنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تم سے ایک بچے کوجنم دیا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آکر اس کے پیٹ میں ایک کچوکا لگایا اور بولا کہ اے بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے، ان کو بوسہ دینے اور چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔ وہ بولے کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو۔ تو لوگوں نے بنا دیا۔ سوم: وہ تیسرا بچہ جس نے گود میں کلام کیا وہ وہ بچہ تھا جو اپنی ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا۔ ايسے میں ایک بہت اچھی سواری پر ایک بہت ہی خوش وضع و خوش پوشاک شخص کا گزر ہوا۔ نبی ﷺ نے اس بچے کے اپنے ماں کی چھاتی سے دودھ پینے کی حالت کو بیان کرنے کے لیے اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈالی یہ بیان کرنے کے لیے کہ فی الواقع ایسے ہوا۔ ماں نے کہا: اے اللہ میرے بچہ کو اس جیسا بنا، اس بچے نے کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر لوگ ایک باندی کو لے کر آئے، وہ اسے مار رہے تھے اور اس سے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے، تو نے چوری کی ہے۔ اور وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔ بچے کی ماں دودھ پلاتے ہوئے کہا کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ اس بچے نے پستان کو چھوڑ کر اسے دیکھا اور کہا اے اللہ! مجھے اِسی جیسا بنانا۔ پھر اس نے اپنی ماں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس عورت نے کہا کہ میرا اس آدمی پر گزر ہوا یا اس نے کہا کہ یہ خوش حال آدمی میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا ’’اے اللہ! میرے بیٹے کو بھی اُسی جیسا بنادے۔ اس پر تم نے کہا اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنا۔ بچے نے کہا: ہاں، کیوں کہ وہ شخص ظالم اور سرکش تھا۔ میں نے اللہ تعالی سے دعا کی وہ مجھے اس جیسا نہ بنائے۔ جب کہ عورت کے بارے میں لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے زنا کیا اور چوری کی ہے۔ اور وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اے اللہ! مجھے اُسی جیسا بنا۔ یعنی مجھے زنا سے اور چوری سے پاک رکھ اس حال میں کہ میرا سب کچھ اللہ کے حوالے ہے۔ باندی کے اس قول میں یہی بات تھی کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔