نبی ﷺ بنی اسرائیل کے تین اشخاص کے بارے میں بتا رہے ہیں جن میں ہر ایک کو کوئی نہ کوئی جسمانی بیماری لاحق تھی اور وہ مالی طور پر تھی دست تھا۔ ان میں سے ایک کوڑھی تھا جو ایک بیماری میں مبتلا تھا اور اس کی جلد کا رنگ بدل چکا تھا۔ دوسرا گنجا تھا جس کے سر کے سارے یا کچھ بال اڑ چکے تھے اور تیسرا اندھا تھا ۔ اللہ تعالی نے انہیں پرکھنا چاہا اور ان کے ایمان اور شکر کا امتحان لینے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ انسانی صورت میں ان کی طرف ایک فرشتہ بھیج دیا۔ فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا ۔ وہ سب سے پہلے کوڑھی کے پاس اس لیے آیا کیونکہ اس کی بیماری زیادہ قبیح، گندی اور بڑی تھی۔ فرشتے نے اس کوڑھی سے پوچھا کہ اسے کون سی شے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھی رنگت اور خوبصورت جلد اور یہ کہ میری یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے دور رہتے ہیں۔ اس نے صرف اچھے رنگ پر ہی اکتفاء نہیں کیا کیونکہ کوڑھ زدہ جلد سکڑ اور اینٹھ جاتی ہے اور اس میں کھردرا پن آ جاتا ہے جس سے اس بیماری میں مبتلا شخص کی بد صورتی اور عیب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ فرشتے نے پوچھا تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا: اونٹ یا پھر اس نے کہا کہ گائے۔ اس میں راوی کو شک ہے کہ آیا اس نے اونٹ سنا تھا یا گائے۔ راجح یہ ہے کہ یہ اونٹ ہی ہو کیونکہ اپنے اس قول میں اس نے صر ف اونٹنی کا ہی ذکر کیا ہے کہ: فأعطى ناقة حاملًا یعنی اُسے ایک ایسی حاملہ اونٹنی دے دی گئی جس کے حمل کو دس ماہ ہو چکے تھی۔ اونٹوں میں اس قسم کی اونٹنی سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ پھر فرشتے نے دعا کی کہ اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔ فرشتے کی دعا قبول ہو ئی جیسا کہ بقیہ حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا: تمہیں کون سی شے سب سے زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا: اچھے بال اور یہ کہ میرا یہ گنجا پن دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کہتے ہیں کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ یا تو صرف اس جگہ پر ہاتھ پھیرا جو بیماری زدہ تھا اور اسی کا زیادہ احتمال ہے یا پھر اس کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا تاکہ برکت اس کے سارے بدن کو عام ہو جائے۔ چنانچہ اس کا گنجا پن ختم ہوگیا اور اسے خوبصورت بال دے دیے گئے۔ پھر فرشتے نے اس سے پوچھا کہ کون سا مال تمہیں زیادہ محبوب ہے؟ ۔ اس نے جواب دیا کہ گائے۔ اس پر اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی اللہ تعالی تمہارے لیےاس میں برکت دے۔ فرشتے کی دعا قبول ہوئی جیسا کہ بقیہ حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تمہیں کون سی شے زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا یہ کہ اللہ تعالی مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے اور میں لوگوں کو دیکھنا شروع کر دوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتے نے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پر پھیرا ۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا ہو تاہم پہلی بات کا زیادہ امکان ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے اسے اس کی بینائی لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے دریافت کیا کہ تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ ۔اس نے جواب دیا بھیڑ بکریاں۔ اسے بچے والی ایک بکری دے دی گئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔ اونٹ اور گائے والے دونوں اشخاص نے ان کی افزائش نسل کی اور اسی طرح بکری والے نے بھی اس کی نسل آگے بڑھائی۔ چنانچہ کوڑھی کے اونٹوں سے پوری ایک وادی بھر گئی، گنجے کی گایوں سے ایک وادی بھر گئی نیز اندھے کی بھیڑ بکریوں سے بھی پوری ایک وادی بھر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اس کی سابقہ شکل اور ہیئت میں آیا بایں طور کہ اس نے گھٹیا قسم کے کپڑے پہن رکھے تھے وغیرہ ۔ صحت مند اور امیر ہو جانے کے بعد وہ فرشتہ اس کے پاس اسی شکل میں آیا جس شکل میں وہ پہلی دفعہ آیا تھا اور کہنے لگا کہ میں مسکین اور ضرورت مند آدمی ہوں، اپنے اس سفر کے دوران حصول رزق کی تلاش میں میرے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو چکے ہیں ۔ میں آج اپنی منزل مقصود تک صرف اللہ کے سہارے اور اس کے بعد تمہارے تعاون سے پہنچ سکتا ہوں کیونکہ تم بھلے آدمی دکھائی دیتے ہو اور امیر ہو۔ فرشتے کی طرف سے یہ محض ایک توریہ تھا جس کا مقصد بات سمجھانا ہوتا ہے، ان باتوں کا حقیقی مفہوم مراد نہیں تھا۔ فرشتے نے کہا کہ میں اس ذات کی قسم دے کر تم سے رحم کی درخواست کرتا ہوں جس نے فقر وبیماری میں مبتلا رکھنے کے بعد تجھے خوش نما رنگ، خوبصورت جلد اور مال عطا کیا کہ مجھے ایک اونٹ دے دو جس سے میں اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔کوڑھی نے جواب دیا: میرے اوپر بہت سے حقوق ہیں۔ زائد از ضرورت کچھ ہے ہی نہیں کہ وہ میں تمہیں دے دوں ا س لیے میرے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈو۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کھاتے تھے اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت عطا فرمائی اور کیا تم فقیر نہیں تھے اور پھر اللہ عزّ و جلّ نے تمہیں مال سے نوازا؟۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے تو یہ مال اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس نے اپنی اس خستہ حالی کا بالکل انکار کر دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ تو اچھے حالات ہی میں پلا بڑھا ہے اور یہ اس کے لیے نئے نہیں ہیں۔ یہ نعمت کا انکار اور اس ذاتِ منعم کی ناشکری تھی جس پر اسے بخل نے آمادہ کیا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اسی حالت پر لوٹا دے جس پر تم پہلے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اس کی اس شکل و ہیئت میں آیا جس سے لوگ نفرت کھاتے تھے اور اس کی خستہ حالی کی وجہ سے اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ باجود اس کے کہ وہ اس کے پاس وہ اسی شکل و ہیئت میں آیا تھا جس پر وہ پہلی دفعہ آیا تھا اور جب اس کو صحت اور مال و دولت ملا تھا لیکن وہ اسے پہچاننے سے انکار کر بیٹھا اور اس سے انجان بن گیا اور یہ کہہ کر اس پر اظہار فخر بھی کیا کہ اسے تو یہ مال اس کے باپ کی طرف سے ملا ہے۔ اس نے اپنے جھوٹ کے ساتھ بہت سی دیگر بری باتوں کو بھی ملا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گھٹیاپن اور حماقت میں ایسی انتہاء کو پہنچ چکا تھا جہاں تک کوئی دوسرا نہیں پہنچا تھا۔فرشتے نے اس سے بھی وہی کچھ کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور گنجے نے اسے وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں پھر سے گنجا اور فقیر کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ فرشتہ ایک اندھے آدمی کا روپ دھار کر پہلی والی ہیئت میں اس اندھے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں ۔ دورانِ سفر میرے تمام وسائل منقطع ہو چکے ہیں اور اب اللہ کے بعد تمہارے ہی ذریعے میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہوں۔ میں اس ذات کا واسطہ دے کر تم سے ایک بکری مانگتا ہوں جس نے تمہیں تمہاری بینائی لوٹائی تاکہ اس سے میں اپنی ضروریاتِ سفر پوری کر سکوں۔ اس آدمی نے اپنے اوپر ہو نے والی اللہ کی نعمت اور بد حالی کے بعد ملنے والی اپنی خوشحالی کو یاد کر تے ہوئے کہا کہ میں اندھا تھا پھر اللہ تعالی نے میری بینائی واپس لوٹا دی۔ تم جتنا مال چاہو لے لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم! آج تم جو کچھ بھی لو گے اس کے سلسلے میں میں تجھے بالکل بھی تنگ نہیں کروں گا۔ فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ تم لوگوں کو پرکھا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جو تمام امور سے باخبر ہے تمہارا امتحان لیا تھا، تا کہ تمہارے عمل پر اس کا اثر مرتب ہو سکے کیونکہ عمل کی جزا اسی شے پر مرتب ہوتی ہے جو عالم شہود میں ظہور پذیر ہو نہ کہ اللہ کے پیشگی علم پر۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں یعنی کوڑھی اور گنجے سے ناراض۔