نبی ﷺ نے انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے ایک قوم کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا، جن سے جہاد کا انھیں حکم دیا گیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے ہر اس شخص کو جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو، لیکن ابھی تک اس سے ہم بستری نہ کی ہو اور ہر اس شخص کو جس نے گھر تیار کیا ہو، لیکن ابھی تک اس کی چھت نہ رکھی ہو اور ہر اس آدمی کو جس نے کچھ بھیڑ بکریاں اور حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور ان کے بچے جننے کا منتظر ہو، ان سب کو (جہاد میں شرکت سے) روک دیا۔کیوںکہ ان کے دل ان چیزوں میں لگے ہوتے ہیں، جو ان کے لیے باعث دل چسبی ہیں۔ شادی شدہ آدمی کی توجہ اپنی بیوی پر ہوتی ہے،جس سے اس نے ابھی تک مباشرت نہ کی ہو۔ وہ اس کے لیے مشتاق رہتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص جس نے گھر کی دیواریں تو اٹھا لی ہوتی ہیں، لیکن اس کی چھت نہیں ڈالی ہو، اس کا ذہن بھی اپنے گھر پر لگا ہوتا ہے، جس میں وہ اور اس کے اہل خانہ رہائش پذیر ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح حاملہ اونٹنیوں اور بھیڑ بکریوں کے مالک کا دل بھی ان میں لگا ہوتا ہے اور وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہوتا ہے۔ جہاد کے لیے تو انسان کو بالکل فارغ ہونا چاہیے، بایں طور کہ جہاد کے سوا اسے کوئی اور فکر نہ ہو۔ پھر اس نبی نے جنگ کی اور اس قوم پر نماز عصر کے بعد حملہ کیا۔ رات قریب آ رہی تھی، چنانچہ انھیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر رات کی تاریکی چھا گئی، تو فتح حاصل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے انھوں نے سورج سے مخاطب ہو کر فرمایا: "تو بھی حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں"۔ تاہم سورج کا حکم تکوینی حکم تھا اور اللہ کی طرف سے اس نبی کو جو حکم تھا وہ تشریعی تھا۔ نبی کو جہاد کرنے کا حکم تھا اور سورج مامور تھا کہ جہاں اللہ نے حکم دیا، اس طرف رواں دواں رہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: الشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ" (يس: 38) ترجمہ: اور سورج کے لیے جو مقرره راه ہے، وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔۔ یہ غالب باعلم اللہ تعالی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔ جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے، یہ جہاں کا حکم ہے، وہاں چلا جا رہا ہے، بایں طور کہ نہ تو آگے پیچھے ہوتا ہے اور نہ ہی اوپر نیچے۔ اس نبی نے دعا کی: ”اے اللہ!ہمارے لیے اسے اپنی جگہ روک دے“۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورج کو روک دیا اور وہ اپنے وقت پر غروب نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نبی نے جنگ کر لی اور بہت سارا مال غنیمت ان کے ہاتھ آیا۔ سابقہ امتوں میں جنگ میں شریک ہونے والوں کے لیے اموال غنیمت حلال نہیں تھے، بلکہ اموال غنیمت کا حلال ہونا صرف اور صرف اس امت کی خصوصیت ہے۔ و للہ الحمد۔ جب کہ سابقہ امتوں کے لوگ مال غنیمت کو اکٹھا کرتےاور اگر اللہ کہ ہاں یہ مقبول ہوتا، تو ایک آگ نازل ہو کر اسے جلا ڈالتی۔ اس نبی کو جب مال غنیمت حاصل ہوا اور وہ جمع کیا گیا، تو آگ نے نازل ہو کر اسے نہ جلایا۔ اس پر یہ نبی کہنے لگے: ”تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے“۔ پھر انھوں نے حکم دیا کہ ہر قبیلے میں سے ایک آدمی آگے آ کر اس بات پر ان سے بیعت کرے کہ انھوں نے چوری نہیں کی ہے۔ جب انھوں سے اس بات پر بیعت کرنا شروع کیا کہ انھوں نے چوری نہیں ہے تو اس دوران ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ میں چپک گیا ۔ہاتھ چپکنے پر انھوں نے فرمایا: "چوری تم میں ہے"۔ یعنی اس قبیلہ والوں نے چوری کی ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس قبیلے میں سے ہر کوئی الگ الگ بیعت کرے۔ اس پر ان میں سے دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ اس نبی نے فرمایا: ”چوری تمھارے اندر ہے“۔ چنانچہ وہ لوگ چوری شدہ مال لے کر آئے۔ انھوں نے سونے سے بنی بیل کے سر کی مانند ایک شے چھپا رکھی تھی۔ جب اسے لا کر مال غنیمت میں رکھ دیا گیا تو آگ نے اسے جلا دیا۔