حدیث میں دو احتمال ہیں: پہلا احتمال: ہر وہ لشکر جس کی دشمنوں سے جنگ ہوئی اور وہ اس میں بچا رہا اور مال غنیمت بھی حاصل کیا تو اس کا اجر اس لشکر سے کم ہوگا جو صحیح سالم نہیں رہا یا اگرصحیح سالم رہا بھی تو اسے مال غنیمت حاصل نہ ہوا۔ امام نووی نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے۔ دوسرا احتمال: یہ حدیث غنیمت کے حلال ہونے اور اس بات کی دلیل ہے تاہم اس سے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس اس میں ہوتا یہ ہے کہ اجر کا کچھ حصہ جلدی مل جاتا ہے۔ باقی مال غنیمت حاصل کرنے والے یا حاصل نہ کرنے والے دونوں برابر ہیں تاہم مال غنیمت پانے والے کو اس کا دو تہائی اجر جلدی مل جاتا ہے جب کہ کل کے اعتبار سے وہ دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص کو جسے مال غنیمت نہیں ملتا اسے اتنا اجر بطور عوض عطا فرمائے گا جتنی مقدار میں وہ غنیمت سے محروم رہا ہوگا اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔