سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا گزر اپنے چند ساتھیوں پر ہوا جو تیراندازی کا مقابلہ کر رہے تھے کہ کون اپنے ساتھی پر سبقت لے جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تائید کی اور یہ کہہ کر ان کا حوصلہ بڑھایا کہ اے اولادِ اسماعیل تیر اندازی کرو، یعنی اس کو لازم پکڑو اور اس پر قائم رہو کیوں کہ اے اولاد اسماعیل! یہ تمہارے اوپر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اور آپ اس سے عربوں کو مراد لے رہے تھے، کیوں کہ تمہارے باپ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ایک اچھے اور بہترین تیر انداز تھے۔