ہمیں نبی ﷺ نے پچھلی امتوں کے واقعات میں سے یہ واقعہ بتایا؛ تاکہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی صدقہ دینے کی غرض سے نکلا۔ یہ معروف بات ہے کہ صدقہ فقرا اور مساکین کو دیا جاتا ہے؛ لیکن اس کا صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں پڑ گیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات میں ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ چور کی سرزنش کا حق دار ہوتا ہے؛ مال و دولت دیے جانے کا نہیں۔ ایسے میں صدقہ دینے والے نے کہا: اللہ تیری تعریف و شکر ہے؛ کیوں کہ ہر حال میں اس کی تعریف و شکر ہونا چاہیے۔ پھر یہ آدمی نکلا اور کہا: آج رات میں صدقہ کروں گا۔ لیکن اس نے ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں صدقہ رکھ دیا، جو لوگوں سے زنا کرواتی تھی۔ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ عقل و فطرت تسلیم نہیں کرتی کہ ایک زانیہ کو صدقہ دیا جائے۔ اس آدمی نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے۔ پھر اس نے کہا: آج رات صدقہ کروں گا۔ گویا وہ اپنے پہلے اور دوسرے صدقے کو نامقبول سمجھے ہوئے تھا۔ اس نے صدقہ دیا، تو ایک مال دار آدمی کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ جب کہ مال دار آدمی صدقے کا مستحق نہیں ہوتا؛ بلکہ اسے تحفہ تحائف وغیرہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ اس کی چاہت تھی کہ اس کا صدقہ کسی پاک باز متعفف فقیر کو ملے؛ لیکن اللہ کی لکھی تقدیر ہوکر رہتی ہے۔ اسے اس امت کے نبی کے ذریعے خبر دی گئی کہ تمھارا صدقہ قبول کر لیا گیا؛ کیوں کہ وہ مخلص تھا اور اس کی نیت اچھی تھی، لیکن اس کی نیت پوری نہ ہو سکی۔ جب کہ ممکن ہے کہ چور صدقہ پا نے کے بعد یہ سمجھے کہ میرے لیے یہ مال کافی ہے اور وہ اپنی چوری سے باز آ جائے یہ کہتے ہوئے کہ میرے لئے یہ مال کافی ہے۔ رہی زانیہ تو شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے؛ کیوں کہ بسا اوقات وہ حصول مال کے لیے زنا میں ملوث ہوتی ہے (اللہ بچائے) اور اسے زنا سے روکنے لائق مال حاصل ہو چکا ہے اور رہا مال دار آدمی تو شاید وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔