نبی ﷺ نے کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال دی۔ آپ ﷺ نے انہیں دو ایسے لوگوں سے تشبیہہ دی جن میں سے ہر ایک کے جسم پر ایک زرہ ہو جس نے اسے چھپا رکھا ہو اور سینے سے لے کر ہنسلی تک اسے محفوظ رکھتی ہو۔ 'ترقوہ' سینے کے بالائی حصے میں موجود ایک ہڈی کا نام ہے (ہنسلی کی ہڈی)۔ خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو یہ زرہ پھیلتی جاتی ہے اور لمبی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے گھسٹتی ہے اور اس کے پاؤں، اس کے چلنے اور اس کے قدموں کے نشانات کو چھپا لیتی ہے جب کہ کنجوس شخص کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کی زرہ اس پر تنگ ہوگئی ہے یہاں تک کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھ جائیں اور جب بھی وہ کشادہ ہونے کا ارادہ کرے تو زرہ اس کی ہنسلی کے ساتھ لپٹ جائے۔