ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ گھر کے صحن میں بیٹھے تھے۔ فِنَاء گھر کے قریب کھلی جگہ کو کہتے ہیں، اس میں بیٹھ کر اپنے معاملات کے بارے میں باتیں کررہے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوئے اور ہمیں راستوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ”إنما قَعَدْنَا لغير ما بأس، قَعَدْنَا نتذَاكَر، ونتحدث“ یعنی اے اللہ کے رسول ﷺ ہم یہاں کسی غیر شرعی کام کے لیے نہیں بیٹھے، بلکہ جائز کام کے لیے بیٹھے ہیں، یہاں بیٹھ کر ہم بات چیت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”إما لا فأدُّوا حقَها“ یعنی اگر تم ان مجلسوں کو چھوڑ نہیں سکتے تو ان کا حق ادا کرتے رہو۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ”إنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِس فَأَعْطُوا الطَّريقَ حَقَّهُ“ اور ایک اور روایت کے الفاظ ہیں ”سَألُوهُ وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟“ یعنی صحابہ نے پوچھا کہ راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نظریں جُھکانا، سلام کا جواب دینا اور اچھی بات کرنا۔ دوسری روایت میں ہے: نظریں جُھکانا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا اور بُرائی سے روکنا۔ مطلب یہ کہ اگر تمہیں لامحالہ راستوں میں بیٹھنا ہی ہے تو پھر راستے کا حق ادا کرنا تمہارے اوپر لازم ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے راستوں میں بیٹھنے سے ممانعت کا سبب بتلایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بسا اوقات انسان کو فتنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے عورتوں کا سامنے آنا اور انہیں دیکھنے کا خوف اور اس کی وجہ سے فتنے میں پڑنا، اسی طرح اللہ اور مسلمانوں کے ایسے حقوق کا پیش ہونا جن کی ادائیگی گھر میں ہونے کی صورت میں لازم نہیں آتی، کیونکہ وہ اکیلا ہوتا ہے یا اپنی ضروری کاموں میں مشغول ہوتا ہے، ان کُھلے راستوں میں بُرائیوں پر بھی نظر پڑے گی، اس وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اگر اسے چھوڑے گا تو اللہ کی نافرمانی لازم آئے گی۔ اسی طرح گزرنے والے کو سلام کرنا بھی لازم آئے گا، بسا اوقات لوگوں کی کثرت کی وجہ سے بیٹھنے والا سلام کرنے اور اس کا جواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا اور انسان کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ فتنوں سے بچے اور ان میں پڑنے سے اپنے آپ کو بچائے، اس لئے کہ اپنے نفس پر ان چیزوں کو لازم نہ کرے جن کا حق ادا کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔