نبی ﷺ نے تین خصلتوں پر قسم اٹھائی اور صحابہ کرام کو ایک اور بات بھی بتائی۔ وہ تین خصلتیں یہ ہیں: 1۔ بندے کا مال صدقہ دینے سے کم نہیں ہوتا۔ یعنی صدقہ دینے کی وجہ سے اس کی برکت میں کمی نہیں ہوتی۔ 2۔ جب کسی بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے، تو اللہ تعالی اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر اس ظلم میںک چھ بے عزتی بھی شامل ہو تو اللہ تعالی اسے عزت بخشتا ہے اور ظالم کو ذلیل کرتا ہے۔ 3۔ جب کوئی شخص بلا ضرورت لوگوں سے، صرف مال و دولت میں اضافے کے لیے مانگنا شروع کردیتا ہے، تو اللہ تعالی اسے فقر و فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کے لیے کسی اور ضرورت کا دروازہ کھول دیتا ہے یا اس سے کوئی نعمت چھین لیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: 1- وہ جسے اللہ تعالی نے مال اور علم دونوں عطا کیا ہے، پس وہ شخص صحیح جگہ اس مال کو خرچ کرنے میں احتیاط کرتا ہے، اپنے علم پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کرتا ہے۔ یہ شخص سب سے بلند مرتبہ والا ہے۔ 2- وہ بدہ جسے اللہ تعالی نے علم تو عطا کیا ہے لیکن مال عطا نہیں کیا، وہ اپنی نیت میں سچا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس پہلي آدمی کی طرح اسے خرچ کرتا، پس وہ اپنی تیت کے مطابق ہی ہوگا، پہلا اور دوسرا شخص اجر وثواب میں برابر ہیں۔ 3- تیسرا وہ شخص ہے جسے اللہ تعالی نے مال تو عطا کیا ہے لیکن علم نہیں دیا، پس وہ مال کے معاملہ میں بغیر علم کے بھٹک جاتا ہے، اس مال کے سلسلہ میں اپنے رب سے ڈرتا نہیں، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالی کا کوئی حق وہ جانا ہے، یہ شخص سب سے بدترین مرتبہ کا ہے۔ 4- چوتھا آدمی وہ ہے جسے اللہ تعالی نے نہ ہی مال عطا کیا ہے اور نہ ہی اسے علم سے نوازا ہے، وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں تیسرے شخص کی طرح اسے خرچ کرتا، پس وہ اپنی نیت کے مطابق ہے اور ان دونوں (تیسرے اور چوتھے شخص) کا گناہ برابر ہے۔