عاصم بن ثابت انصاری اور ان کے ساتھی صحابہ رضی اللہ عنھم کے اس قصے میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی ایک واضح کرامت کا ثبوت ہے۔ نبی ﷺ نے ان دس صحابہ رضی اللہ عنھم کو دشمنان اسلام کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمایا تھا؛ تاکہ ان کی خبریں اور خفیہ اطلاعات بہم پہنچائیں۔ جب صحابہ کی یہ جماعت، مکہ مکرمہ کے قریب پہنچی، تو قبیلۂ ہذیل کی ایک جماعت کو ان کی آمد کا پتہ چل گیا اور ماہر تیر اندازوں پر مشتمل لگ بھگ سو افراد کی جمعیت ان کی جانب نکل پڑی۔ انھوں نے نقش قدم کا تعاقب کرتے ہوئے ان کا گھیراؤ کرلیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے امان میں نیچے اتر جائیں۔ انھوں نے یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ انھیں قتل نہیں کریں گے۔ لیکن عاصم رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ میں کسی کافر کے عہد وپیمان پر نہیں اتروں گا؛ کیوں کہ کافر نے اللہ سے خیانت کی ہے اور جو اللہ سے خیانت کر سکتا ہے، وہ اس کے بندوں سے بھی کر سکتا ہے۔ انھوں نے صحابہ پر تیر برسانی شروع کردی اور عاصم اور دیگر چھے صحابۂ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو شہید کردیا۔ دس میں سے تین باقی رہ گئے، جو نیچے اترنے پر راضی ہوگئے۔ ہذیلیوں نے انھیں پکڑلیا اور ان کے ہاتھ باندھ دیئے۔ اس پر تیسرے صحابی نے کہا کہ یہ سب سے پہلی عہد شکنی ہے۔ میں تمھارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ انھوں نے انھیں بھی شہید کردیا۔ پھر انھوں نے خبیب اور ان کے ساتھی کو مکہ لے جاکر فروخت کردیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ میں سے ان لوگوں نے خریدلیا، جن کے ایک سردار کو خبیب رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں قتل کیا تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ان سے بدلہ لینے کا یہی موقع ہے۔ انھوں نے خبیب کو اپنے ہاں قید رکھا۔ انھیں دنوں بنو حارثہ کے گھر کا ایک چھوٹا سا بچہ خبیب رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کے دل میں اس بچے کے لیے شفقت و رحمت کے جذبات امنڈ پڑے۔ انھوں نے اسے اپنی ران پر بٹھالیا۔ قبل ازیں انھوں نےاپنے زیرناف بال کاٹنے کے لیے گھر والوں سے استرہ مانگ کر لیا تھا اور بچے کی ماں اس سے بالکل ان جان تھی۔ جب اس کو اس امر کا پتہ چلا تو خو ف زدہ ہوگئی کہ کہیں خبیب بچے کو قتل نہ کردیں؛ صحابی رضی اللہ عنہ نے جب محسوس کیا کہ بچے کی ماں خوف زدہ ہوگئی ہے، تو اس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایاکہ اللہ کی قسم! میرا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ خاتون کہا کرتی تھیں:اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے ایک دن دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں انگور کا ایک گچھا ہے، جس میں سے وہ کھا رہے ہیں، جب کہ مکہ مکرمہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ میں جان گئی کہ یہ اللہ عز وجل کی جانب سے خبیب رضی اللہ عنہ کی عزت افزائی کا ایک مظہر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مکے میں اسیری کی حالت میں ان کے کھانے کا انتظام کرتے ہوئے (آسمان سے) انگور کے گچھے نازل فرمادیے۔ پھر ان لوگوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا، جن کے والد کو انھوں نے(غزوۂ بدرمیں)قتل کیا تھا، لیکن حرم مکہ کے احترام میں انھوں نے طے کیا کہ انھیں حدود حرم کے باہر لے جاکر قتل کریں گے۔ چنانچہ جب وہ خبیب کو قتل کرنے کے لیے حدود حرم کے باہر "حل" کی جانب نکلے،تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے دو رکعت نماز ادا کرنے کی درخواست کی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اگر مجھے اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ تم یہ کہنے لگو کہ یہ قتل ہونے سے ڈر گیا ہے-یا اس جیسی کوئی اور بات کہی-، تو اور نمازیں پڑھتا۔ انھوں نے دو رکعت ہی پڑھی اور پھر ان کے حق میں تین بد دعائیں کیں: اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو گن لے، ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ ہلاک کر اور ایک کو بھی باقی نہ رہنے دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمالی۔ ان میں سے کوئی بھی اس سال زندہ نہ رہا، بلکہ ان سب کو قتل کردیا گیا۔ یہ بھی اس صحابی جلیل کے شرف و کرامات میں سے ہے۔ پھر انھوں نے یہ اشعار پڑھائے: جب میں اسلام کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر پچھاڑا جائے گا اور یہ سب تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے، تو میرےپھٹے ہوۓ جسم کے ایک ایک جوڑ پر ثواب عطا فرمائے۔ دوسری جانب، شہید ہونے والے صحابی عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خبر جب قریش کے بعض لوگوں تک پہنچی، جن کے ایک سردار کو عاصم نے قتل کیا تھا، تو انھوں نے کچھ لوگوں کو ان کی شناخت کے لیے ان کے کسی عضو کو کاٹ کر لانے کی خاطر روانہ کیا؛ تاکہ انھیں اطمینان ہوجائے کہ واقعی انھیں کو قتل کیا گیا ہے۔ جب یہ لوگ ان کا کوئی عضو حاصل کرنے کے لیے پہنچے، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بادل کی طرح شہد کی مکھیوں کا جھنڈ بھیجا، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دشمنوں سے ان کی حفاظت فرمائی۔ دشمن ان کے پاس پہنچنے سےعاجز رہ گئے اور ناکام و نامراد لوٹ گئے۔ یہ بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے عاصم رضی اللہ عنہ کےلیے شرف و کرامت کا اظہار تھا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے جسم کو دشمنوں سے محفوظ رکھا، جو ان کے جسم کا مثلہ کرنے کے خواہش مند تھے۔