مجموعی طور پر شہداء کے پانچ اصناف ہیں: وہ شخص جو طاعون میں مبتلا ہوا اور اسی سے مرگیا، یہ ایک مہلک وبا ہے۔ اور جو پیٹ کی بیماری سے مرجائے۔ اور جو ڈوب کر مرجائے بشرطیکہ اس کا یہ سمندری سفر حرام نہ ہو، یا پھر جو سیلاب یا سوئمنگ پول وغیرہ میں ڈوب کر مرجائے۔ اور جو ملبے تلے دب کر مرجائے جیسے کہ اس پر کوئی دیوار گرجائے۔ اور جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے۔ اور یہ سب سے اعلیٰ قسم ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑائی کے علاوہ کسی اور وجہ سے مر جائے۔ پہلے چار قسم کے شہداء اخروی احکام کے اعتبار سے شہید ہیں، دنیوی اعتبار سے نہیں۔ چنانچہ انہیں غسل دیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس حدیث میں (شہداء کی) جو تعداد بیان کی گئی ہے، وہ حصر کے لئے نہيں ہے۔۔