آپ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا۔ اس کا امیر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، تاکہ قریش کے اس قافلہ کو پکڑلیں جو اناج اور گیہوں لیے جارہا تھا، آپ ﷺ نے ان کو چمڑے کا ایک برتن دیا جس میں کھجوریں تھیں، ان کا امیر توشہ کم ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو ایک کھجور دیتا، وہ اسے چوستے تھے اور اس پر پانی پیتے تھے، وہ اپنی لاٹھیوں سے پتّے جھاڑتے جنہیں اونٹ کھاتے ہیں، پھر ان پتّوں کو پانی میں بھگوتے، جب ان کی سختی چلی جاتی تو کھاتے تھے، جب وہ لوگ ساحل پر پہنچے تو انہوں نے ریت کے ٹیلے کے برابر کوئی چیز دیکھی، وہ بڑی مچھلی تھی، اسے عنبر کہتے تھے، ان کے امیر ابو عبیدہ نے ان کو وہ کھانے سے منع کیا، اس لیے کہ وہ مُردار ہے اور مُردار قرآن کی صراحت سے حرام ہے، پھر ان کا اجتہاد بدل گیا اور اس کو کھانے کی اجازت دی، اس لیے کہ ضرورت کے موقع پر مُردار کھانا بھی جائز ہے، خاص کر جب اللہ کی اطاعت والے سفر میں ہوں، انہیں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ سمندری مُردار حلال ہے۔ پھر انہوں نے مجبوری کو دلیل بنا کر اسے کھایا اور اپنے ساتھ لے گئے، جب وہ مدینے آئے اور آپ ﷺ کو خبر دیا، آپ ﷺ نے انہیں اپنے فعل پر قائم رکھا اور آپ ﷺ نے بھی اس سے کھایا۔