اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے حکمرانوں کے بارے میں پوچھا گيا، جو لوگوں سے اپنی بات ماننے اور پیروی کرنے کا مطالبہ کرتے ہيں، لیکن انصاف کرنے، مال غنیمت دینے، ظلم سے بچانے اور برابری کا معاملہ کرنے جیسے اپنے اوپر عائد ہونے والے لوگوں کے حقوق ادا نہيں کرتے۔ ایسے میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے؟ یہ سوال سننے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سائل سے منہ پھیر لیا۔ ایسا لگا کہ آپ کو یہ سوال پسند نہيں آیا۔ لیکن سائل اپنا سوال دوسری بار اور پھر تیسری بار دوہراتا رہا۔ یہ دیکھ کر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے خاموش کرنے کے لیے سائل کو کھینچا۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سوال کا جواب دے دیا۔ فرمایا : تم ان کی بات سنو اور ان کے حکم کی تعمیل کرو۔ کیوں کہ ان کو عدل و انصاف کرنے اور عوام کو ان کا حق دینے جیسی ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو ان کے سر پر ڈالی گئی ہيں اور تمہیں اطاعت گزاری، حقوق کی ادائیگی اور آزمائش کے موقع پر صبر جیسی ان ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو تمھارے سر پر ڈالی گئی ہيں۔