اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اسے اپنے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ایک بانٹنے والے کی ہے۔ آپ اللہ کا دیا ہوا مال اور علم وغیرہ لوگوں کے بیچ بانٹنے کا کام کرتے ہيں۔ جب کہ اصل دینے والا اللہ ہے۔ اس کے سوا دوسرے لوگ اسباب ہیں، جو اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کا کچھ بھلا نہیں کر سکتے۔ تیسری بات آپ نے یہ بتائی کہ یہ امت قیامت کے دن تک اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور اس کی مخالفت کرنے والے اسے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔