اس حدیث میں علم اور اس شرعی علوم کے حامل شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو فرض عبادات کی ادائیگی کے ساتھ حتی المقدور نوافل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ”عابد“ یعنی خود کو عبادت کے لیے وقف کردینے والے پر۔ ”جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر“ یعنی عالم کا فضل و شرف، عابد کے مقابلے میں ویسا ہی ہے، جیسا رسول اللہ ﷺ کا فضل و شرف ایک ادنی صحابی کے مقابلے میں۔ ادنی صحابی رسول، مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ کےاس قول”ادناکم“ کے مخاطب صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ہی تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:”یقینا اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والے“ یعنی زمین پر رہنے والے تمام انسان، جنات اور تمام حیوانات، یہاں تک کہ بلوں یعنی سوراخوں میں رہنے والی چیونٹیاں اور مچھلیاں بھی لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والوں کے حق میں خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ یہاں خیر سے مراد علم دین اور وہ چیزیں ہیں، جن سے دنیا و آخرت کی نجات وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلاۃ سے مراد، اس کے مقرب فرشتوں کے گروہ کے روبرو، بندے کی تعریف و ستائش ہے اور فرشتوں کی جانب سے صلاۃ سے مراد بندے کے حق میں استغفار ہے۔ اس شخص سے بڑھ کر کسی کا کوئی مقام نہیں ہوسکتا، جس کے حق میں روزقیامت تک فرشتے اور تمام مخلوقات، استغفار اور دعا میں مصروف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اجر وثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔