اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں تازگی و سرسبزی اور آخرت میں سرسبزی وشادابی اور نعمتوں کے حصول کی دعا ہر اس شخص کے لیے فرمائی ہے، جو آپ کی حدیث سنے، اسے یاد رکھے اور دوسروں کو پہنچا دے۔ کیوں کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ناقل حدیث کے مقابلے میں اس سے اخذ کرنے والا ہی کہیں زیادہ یاد رکھنے والا، سمجھنے والا اور استنباط کی صلاحیت رکھنے والا ہوتا ہے۔ ایسے میں پہلا شخص حفظ ونقل کا کام بہتر انداز سے کرتا ہے اور دوسرا فہم واستنباط کا کام بہتر طریقے سے کرتا ہے۔