اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ اس لیے دعا خالص طور پر اللہ کے لیے خاص ہونی چاہیے۔ چاہے دعا سوال و طلب پر مبنی ہو، مثلا یہ کہ اللہ سے دنیا و آخرت کی کوئی بھلائی مانگی جائے یا نقصان دہ چیز سے حفاظت مانگی جائے، یا پھر عبادت پر مبنی ہو۔ عبادت پر مبنی دعا سے مراد ہر وہ ظاہری و باطنی قول و عمل ہے، جو اللہ کو محبوب و پسند ہو۔ اس میں قلبی، بدنی اور مالی ساری عبادتیں داخل ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔)