ایک شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری سواری کا جانور ہلاک ہو گیا ہے، لہذا مجھے سواری کے لیے ایک جانور عطا کیجیے، تاکہ میں اپنا سفر پورا کر سکوں۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ تمہیں دینے کے لیے میرے پاس جانور نہيں ہے۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں اسے ایک شخص کا پتہ بتا سکتا ہوں، جو اسے سواری کے لیے جانور دے دے گا۔ اسی پس منظر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ وہ بھی اجر و ثواب میں صدقہ کرنے والے کا شریک ہے۔ کیوں کہ اس نے ضرورت مند کو ضرورت پوری کرنے کا راستہ بتایا ہے۔