اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ بندہ جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے، جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اسے بخش دیا۔ پھر جب بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور اس کا یقین ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ معاف کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اسے بخش دیا۔ جب بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ معاف کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ اب وہ جو چاہے، کرے، جب تک حالت یہ ہو کہ ہر بار گناہ کرنے کے بعد وہ فورا گناہ کرنا چھوڑ دے، شرمندہ ہو اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ کر لے، لیکن نفس کے بہکاوے میں آکر پھر گناہ کر بیٹھے۔ جب تک یہ حالت بنی رہے، یعنی گناہ کرے اور توبہ کر لے، تو میں اسے معاف کرتا رہوں گا۔ کیوں کہ توبہ پہلے کیے ہوئے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔