نبی ﷺ نےقبیلۂ ازد کے ایک آدمی کو جنھیں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا صدقہ اکٹھا کرنے کا مکلف بنایا۔ جب وہ اپنے کام سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے، تو اپنے پاس موجود کچھ مال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مال آپ مسلمانوں کی جماعت کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیۃً دیا گیا ہے! تو نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے؛ تاکہ لوگوں کو بتائیں اور اس کام سے انھیں ڈرائیں۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک میں کسی کو زکاۃ اور مال غنیمت وغیرہ کی وصولی کا عامل بناتا ہوں، جس کا مجھے اختیار عطا کیا ہے۔ پھر وہ اپنے کام سے واپس آکر کہتا ہے: یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ ہدیہ ہے، جو مجھے دیا گیا ہے! اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو کیوں نہیں اپنے باپ کے گھر میں یا ماں کے گھر میں بیٹھا رہا کہ اس کے پاس ہدیہ آجاتا؟ اللہ کی قسم! جو شخص عامل رہتے ہوئے کوئی عطا کی ہوئی چیز لےگا، وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس چیز کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہوگا۔ اگرچہ وہ اونٹ ہو، گائے ہو یا بکری ہی کیوں نہ ہو! پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائےکہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کے بغل کی سفیدی دیکھی، پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! میں نے پہنچا دیا!