ایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔