یہ حدیث شریف اذان کا قصہ بیان کرتی ہے، اور وہ یہ کہ نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ نصاریٰ کی طرح ایک ناقوس اپنا لیا جائے تاکہ اس کی آواز پر لوگ نماز کے لئے اکٹھا ہو جایا کریں، پھر آپ نے ایسا نہیں کیا اس لئے کہ وہ ان کے شعار و خصائص میں سے تھا، تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابیٔ رسول نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ناقوس بیچ رہا ہے، انہوں نے سوچا کہ اس سے خرید لیں تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لئے اکٹھا کریں، تو اس شخص نے ان سے کہا :کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ اور اس نے انھیں اذان کے جملے سکھلائے۔ صبح ہوئی تو عبداللہ بن زید رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے خواب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتلایا کہ یہ سچا خواب ہے اور انہیں حکم دیا کہ اذان کے وہ کلمات (جو خواب میں دیکھے ہیں) بلال کو پڑھا دیں تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز ان سے بہتر تھی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب اسے سنا تو وہ بھی تشریف لائے اور نبی ﷺ کو خبر دی کہ انہوں نے بھی اسی طرح خواب دیکھا ہے۔