اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہمارے درمیان مفلس وہ ہے، جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو۔ جواب سن کر آپ نے کہا: قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ ہوگا، جو اچھے اعمال جیسے نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے ساتھ آئے، لیکن دنیا میں کسی کو گالی دے رکھی ہو، کسی کی عزت و آبرو پر تہمت لگا کر آیا ہو، کسی کا مال کھاکر انکار کر دیا ہو، کسی کو مارا اور ذلیل کیا ہو۔ لہذا اس کی نیکیاں لے کر مظلوموں کے درمیان بانٹنا شروع کر دیا جائے گا۔ اگر اس کی ستم رسانیوں کا حق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئيں، تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس کے صحیفوں میں درج کر دیا جائے گا اور چوں کہ اس کے پاس نیکیاں باقی نہیں رہ جائيں گی، اس لیے اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔