اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک مسلمان کو اسی نوعیت کا اجر وثواب ملتا ہے، جو وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی کوئى بھى پریشانی اور سختى دور کى، تو اللہ تعالیٰ بدلے کے طور پر اسے قیامت کے دن کى پریشانیوں اور مشکلات میں سے کسى ایک پریشانی اور سختى سے نجات عطا فرمائے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اسے سہولت فراہم کی اور اس کی تنگ دستی کو دور کیا، اللہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی کی راہیں نکالے گا۔ جو شخص کسی مسلمان سے ہونے والی کسی لغزش سے واقف ہو گیا، جس کا شکار اسے نہيں ہونا چاہیے تھا، پھر اس پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی لغزشوں پر پردہ ڈالے گا۔ اللہ بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کے دینی و دنیوی کاموں میں اس کی مدد کرنے کی راہ پر گام زن رہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مدد دعا کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے، بدن کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور مال وغیرہ کے ذریعے بھی۔ جو شخص اللہ کی رضا جوئی کی خاطر علم شرعی کی تلاش میں چل پڑا، اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں جمع ہوتے ہيں، اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہيں، تو ان پر وقار و اطمینان کی بارش ہوتی ہے، ان کو اللہ کی رحمت اپنے سایے میں لے لیتی ہے، فرشتے انھیں گھیر لیتے ہيں اور اللہ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف کرتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کا ذکر اللہ اپنے مقرب فرشتوں میں کر دے۔ جس کا عمل ناقص ہو، اس کا نسب اسے سرگرم عمل رہنے والے لوگوں کے مرتبے تک پہنچا نہیں سکتا۔ لہذا انسان کو اپنے اونچے حسب نسب اور آبا و اجداد کے فضل و شرف پر بھروسہ کر کے عمل کے میدان میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔