ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس آدمی کا حکم پوچھنے آیا، جو جہاد میں اللہ سے اجر و ثواب اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے شریک ہوتا ہو۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسے شخص کو اجر و ثواب ملے گا یا نہیں؟ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے جواب یہ دیا کہ اسے کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔ کیوں کہ اس نے اپنی نیت میں غیراللہ کو شریک کر لیا۔ اس شخص نے اپنا یہ سوال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے تین بار رکھا اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ اسے کوئی اجر و ثواب نہيں ملے گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں کسی عمل کے قبول ہونے کا ایک قاعدہ بیان فرما دیا۔ قاعدہ یہ ہے کہ اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے، جسے پورے طور پر اللہ کے لیے اور اس کی خوش نودی کے حصول کی خاطر کیا جائے اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔