جس نے ہر دن صبح فجر طلوع ہونے کے بعد اور ہر دن شام کو سورج ڈوبنے سے پہلے تین بار یہ دعا پڑھی : "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ"۔ میں اس اللہ کی مدد لیتا اور ہر اذیت ناک چیز سے اس کی حفاظت میں جاتا ہوں، جس کا نام لے لینے کے بعد کوئی بڑی سے بڑی چيز، زمین سے نکلنے والی بلا ہو کہ آسمان سے اترنے والی مصیبت، نقصان نہیں پہنچاتی۔ وہ ہماری باتوں کو سننے والا اور ہمارے حالات کی خبر رکھنے والا ہے۔ شام کے وقت پڑھنے کی صورت میں اسے صبح تک کوئی چیز اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی اور صبح کے وقت پڑھنے کی صورت میں کوئی چیز شام تک اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی۔ چنانچہ راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ فالج ایک بیماری ہے، جس میں بدن کا ایک جانب ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ لہذا ان سے حدیث سننے والا شخص تعجب سے ان کی جانب دیکھنے لگا، تو انھوں نے اس شخص سے کہا : بات کیا ہے کہ تم میری جانب دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم! نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے اور نہ عثمان نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے۔ دراصل جس دن مجھ پر فالج کا حملہ ہوا، اس دن میں یہ دعا پڑھ نہيں سکا تھا۔ میں اس دن غصے کا شکار ہو گیا تھا اور مذکورہ دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔