اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے جب صبح آتی، یعنی طلوع فجر کے ساتھ دن کا پہلا حصہ نمودار ہوتا، تو یہ دعا پڑھتے : "اللهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ۔" اے اللہ! ہم نے تیری حفاظت میں، تیری نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے، تیرے ذکر میں مشغول ہوکر، تیرے نام کے ساتھ مدد طلب کرتے ہوئے، تیری توفیق کے سائے میں اور تیری دی ہوئی قوت سے رواں دواں ہوکر صبح کی۔ (وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ) یعنی مذکورہ دعاؤں کو شام میں ادا کرے سو کہے: تیرے ہی زندگی دینے والے نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے موت دینے والے نام پر ہم مرتے ہیں۔ ہمیں تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ اس دعا میں آئے ہوئے لفظ "النُّشُورُ" کے معنی ہیں، موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اور جمع ہونے کے بعد الگ الگ ہونا۔ ہمارا حال تمام اوقات میں اسی روش پر قائم ہے۔ میں نہ اس سے الگ ہوں اور نہ جدا۔ اسی طرح جب آپ کے سامنے شام آتی، جو عصر کے بعد شروع ہوتی ہے، تو فرماتے : "اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وبكَ أصبحنا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ المَصِيْر۔" یعنی اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس دعا میں آئے ہوئے لفظ "المَصِيْر" کے معنی ہیں، دنیا میں لوٹنے کی جگہ اور آخرت کا انجام کار۔ پس تو ہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور تو ہی موت دیتا ہے۔