ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ صبح کی نماز پڑھنے کے لیے ان کے پاس سے باہر نکلے اور چاشت کے وقت واپس آئے تو دیکھا کہ وہ اللہ تعالی کا ذکر ہی کر رہی ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے ان کے پاس سے چلے جانےکے بعد چار کلمات پڑھے ہیں اور اگر ان کا مقابلہ ان سب کلمات سے کیا جائے جو انہوں نے صبح سے پڑھی ہے تو وہ اجر کے اعتبار سے ان کے برابر ہو جائیں یا ان سے بھی زیادہ وزنی ہو جائیں۔ پھر نبی ﷺ نے ان کلمات کی وضاحت فرمائی کہ وہ یہ ہیں: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَاءَ نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ“۔ یعنی اتنی زیادہ تسبیح جو اس کی مخلوق کے بقدر ہو جس کی تعداد کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اور اتنی عظیم تسبیح جو اللہ کو راضی کردے اور اتنی بھاری تسبیح جو عرش کے وزن کے برابر ہو اگر عرش کوئی محسوس ہونے والی شے ہوتا اور ایسی تسبیح جو ہمیشہ جاری رہے اور جس میں کبھی انتقطاع نہ آئے۔