ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں سے بات کرنے لگے۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: مجھے اپنے بعد تمھارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر زمین کی برکتوں، دنیا کی رعنائی، اس کی چمک دمک اور اس کے طرح طرح کے ساز و سامان، کپڑوں اور کھیتوں کے دروازے کھول دیے جائيں، جو ہیں تو کچھ ہی دنوں کے لیے لیکن لوگ ان کے حسن وجمال پر فخر و مباہات کرتے ہيں۔ ایک شخص نے کہا: دنیا کی رعنائی بھی تو اللہ کی نعمت ہے، تو کیا یہ نعمت نقمت وعقوبت بن سکتی ہے؟ اس کی بات سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور لوگوں کو لگا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، لہذا لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے۔ لیکن کچھ ہی لمحوں میں واضح ہو گیا کہ آپ پر وحی اتر رہی تھی۔ پھر اپنی پیشانی سے پیسنہ پوچھنے لگے اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا : میں یہاں ہوں۔ چنانچہ آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی اور اس کے بعد فرمایا: حقیقی خیر تو خیر ہی لاتی ہے۔ لیکن یہ رعنائی خالص خیر نہیں ہے کیوں کہ یہ فتنہ، دنیوی معاملات میں مقابلہ آرائی اور آخرت پر مکمل توجہ مرکوز کرنے سے غفلت کا باعث بنتی ہے۔ پھر اس کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: موسم بہار میں اگنے والی ہریالی جانور کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور زيادہ کھانے کے نتیجے میں ہونے والی بیماری کی وجہ سے اس کی جان لے لیتی ہے یا اسے ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ البتہ جو جانور کھاتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھ بھر جاتی ہیں، تو سورج کی جانب منہ کر لیتا ہے، پاخانہ یا پیشاب کرتا ہے، پھر اپنے پیٹ میں موجود گھاس کو منہ میں نکالتا ہے، چباتا ہے، پھر نگل لیتا ہے اور اس کے بعد واپس جاکر کھانے لگتا ہے۔ بلاشبہ یہ مال اس سر سبز اور مزے دار گھاس کی طرح ہے، جو زیادہ کھا لیے جانے کی وجہ سے ہلاک کر دیتی ہے یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ لیکن جب انسان بہ قدر ضرورت اور بہ قدر کفایت حلال طریقے سے حاصل کیے گئے مال کے تھوڑے حصے پر اکتفا کر لیتا ہے، تو یہ مال اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ ایک مسلمان کا وہ مال قابل تعریف ہے، جس کا کچھ حصہ وہ مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے۔ جو شخص حق کے ساتھ مال لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق طریقے سے مال لیتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔ یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔