اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس بات کی امید رہتی ہے کہ اللہ گناہ کرنے والے مسلمان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے۔ لیکن ایسا فخر اور بے شرمی کے ساتھ گناہ کرنے والے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ شخص عفو و درگزر کا حق دار نہیں ہے، جو رات میں گناہ کرتا ہو اور صبح لوگوں کو بتاتا پھرتا ہو کہ اس نے گزشتہ رات فلاں گناہ کیا ہے، جب کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ پوری رات اللہ نے پردہ ڈالے رکھا اور صبح ہوتے ہی اس نے اسے تار تار کر دیا۔