نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ تین قسم کے گنہ گار ایسے ہیں جنہیں سخت سزا دی جائے گی کیونکہ ان کے جرائم بہت بھیانک ہوں گے: ایک : تو وہ شخص جو باوجود اپنے بڑھاپے کے زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے حق میں گناہ پر ابھارنے والے عنصر (ہارمونس) کمزور پڑ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے زنا پر صرف معصیت اور گناہ کی چاہت نے آمادہ کیا ہے۔ زنا کسی سے بھی صادر ہو، یہ برا ہی ہوتا ہے تاہم ایسے شخص سے زنا کا ظہور بہت ہی برا ہے۔ دوسرا : وہ شخص جو ہو تو فقیر لیکن پھر بھی لوگوں پر بڑائی جتانے۔ اورتکبر کا اظہار چاہے کسی سے بھی ہو، یہ برا ہی ہوتا ہے لیکن فقیر شخص کے پاس کوئی مال و دولت نہیں ہوتا جو اسے تکبر پر آمادہ کرے۔ بلا وجہ اس کا تکبر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ تکبر اس کی فطرت بن چکا ہے۔ تیسرا: وہ شخص جو اللہ کی قسم کو سامان تجارت بنا لے۔ خرید و فروخت میں کثرت کے ساتھ قسم اٹھائے اور یوں اللہ کے نام کی بے قدری کرے اور اسے مال کمانے کا ذریعہ بنا لے۔