اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کے احوال پر بطور استحسان تعجب فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ اس کے سارے احوال خیر کے حامل ہیں۔ جب کہ یہ شرف مومن کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہيں ہے۔ اگر اسے خوشیاں ملتی ہیں اور وہ اللہ کا شکر بجا لاتا ہے، تو اسے شکر کی وجہ سے اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ اگر اسے تکلیف کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اسے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھتا ہے، تو اسے صبر کی بنا پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس طرح اس کا دامن ہر حال میں اجر و ثواب سے بھرا رہتا ہے۔