اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں انسان کو حاصل اللہ کی دو عظیم ترین نعمتوں کے بارے میں خبر دی ہے، جن کے غلط استعمال کی وجہ سے اکثر لوگ ان کے بارے میں خسارے میں رہتے ہيں۔ کیوں کہ جب انسان کے پاس صحت وفراغت دونوں رہتی ہیں، تو اس پر نیکی کے کاموں میں سستی حاوی ہو جاتی ہے اور اس طرح وہ گھاٹا اٹھانے والا ٹھہر جاتا ہے۔ اکثر یہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن اگر دونوں کا استعمال نیکی کے کاموں میں کر لیتا ہے، تو نفع اٹھانے والا ٹھہرتا ہے۔ کیوں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ دنیا میں جو تجارت ہوتی ہے اس کا نفع آخرت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ فراغت کے بعد مشغولیت آجاتی ہے اور صحت کے بعد بیماری آجاتی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو بڑھاپا آجاتا ہے اور اس کے بعد زیادہ کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔