ان دونوں حدیثوں میں انسان کی امیدوں، اس کی موت اور اسے درپیش مصیبتوں کی مثال بیان کی گئی ہے، جن میں سے کسی سے بھی اس کی موت ہو سکتی ہے، اگر وہ ان سے بچ نکلتا ہے، تو اس کا وقت پورا ہونے پر اسے موت آ جائے گی۔ حدیث میں مذکور خطوط سے مراد درپیش مصائب ہیں، آدمی ان میں سے ایک سے بچ نکلے تو دوسرے سے بچ نہیں پاتا اور اگر سب سے بچ جاۓ، اسے کوئی آفت جیسے بیماری، مالی تباہی وغیرہ لاحق نہ ہو، تو بالآخر موت آ گھیرے گی۔ خلاصہ یہ کہ جو شخص کسی سبب سے نہ مرے، وہ مقررہ وقت پر مرے گا، انسان یوں ہی مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوگا کہ اسے قریبی لکیر یعنی موت آ پہنچے گی۔ اس حدیث میں امید کم کرنے اوراچانک آنے والی موت کی تیاری میں لگے رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ حدیث میں "النهش" کا لفظ استعمال کیا گیا۔ جس کے معنیٰ ہیں زہریلا ڈنک۔ یہ تکلیف اور ہلاکت میں مبالغہ سے کنایہ ہے۔