عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہتر انداز میں مسجد نبوی کی تعمیر نو کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے ان کے اس ارادے کو ناپسند کیا۔ کیوں کہ اس سے مسجد نبوی اپنی اس شکل میں قائم نہ رہ پاتی، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں موجود تھی۔ آپ کے زمانے میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی۔ اب عثمان رضی اللہ عنہ اس کی تعمیر پتھر اور چونے سے کرنا چاہتے تھے۔ لوگوں کی ناپسندیدگی دیکھ کر عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جس نے ریا و نمود اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک ہوکر اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایک مسجد بنائی، اللہ تعالی اسے اسی نوعیت کا بہترین بدلہ عطا کرتے ہوئے اس کے لیے جنت میں اسی جیسا ایک گھر بنائے گا۔