explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبھی کبھی وضو کرتے وقت وضو کے سارے اعضا کو ایک ایک بار ہی دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک ہی بار چہرہ دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو بھی ایک ایک بار ہی دھوتے۔ دراصل واجب ایک بار دھونا ہی ہے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا واجب اور ایک سے زیادہ بار دھونا مستحب ہے۔
  • وضو کے اعضا کو کبھی کبھی ایک ایک بار ہی دھویا جا سکتا ہے۔
  • سر کا مسح ایک ہی بار کرنا مشروع ہے۔