اس پوری حدیث میں نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ عبد خیر اس بات کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر لینے کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور پانی منگوایا۔ حاضرین کو یہ امر عجیب لگا کہ نماز پڑھ لینے کے باوجود آپ پانی طلب فرمارہے ہیں۔ پھر وہ خود جان گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں نبی ﷺ کے وضو طریقہ سکھانا چاہتے ہیں۔چنانچہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کو پانی سے بھرا برتن لاکر دیا۔ انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر برتن سے پانی انڈیلتے ہوئے اس کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی۔ ایک چلو پانی ہی سے کلی کی اور ناک بھی جھاڑی۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ چہرے کے حدود میں سر کے بالوں کے آغاز سے لے کر داڑھی کے ظاہری حصے کے ساتھ ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک کا حصہ آتا ہے۔ پھر تین تین مرتبہ اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا۔ دونوں ہاتھوں کے دھونے میں کہنیاں شامل ہیں۔ پھر ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح فرمایا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں تین تین مرتبہ دھویا۔ بعد ازاں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔