عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں۔ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں، دو رکعت عشا کے بعد گھر میں اور دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔ دراصل یہ ایسا وقت تھا، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں کوئی جاتا نہيں تھا۔ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب مؤذن اذان دیتا اور فجر طلوع ہو جاتا، تو آپ دو رکعت پڑھتے۔ جب کہ ایک روایت کے الفاظ ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ صحيح - متفق عليه بجميع رواياته
explain-icon

شرح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے نوافل کی دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، جنھیں سنن رواتب کہا جاتا ہے۔ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد۔ دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں۔ دو رکعت عشا کے بعد گھر میں۔ دو رکعت فجر سے پہلے۔ اس طرح کل دس رکعتیں ہوئیں۔ رہی بات جمعے کی نماز کی، تو اس کے بعد آپ دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • ان سنن رواتب کا مستحب ہونا اور ان کی پابندی کرنا۔
  • سنت نماز گھر میں پڑھنے کی مشروعیت۔