اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کی اذان سننے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ مؤذن کے ذریعے کہے جانے والے الفاظ کو اس کے پیچھے پیچھے دہرائے اور جیسا جیسا مؤذن کہتا جائے، ویسا ویسا وہ بھی کہتا جائے۔ بس "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کو چھوڑ کر۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ پھر اذان ختم ہونے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے۔ کیوں کہ جو شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایک بار درود بھیجے گا، اللہ تعالی اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اللہ سے آپ کے لیے وسیلہ مانگا جائے۔ دراصل وسیلہ جنت کا ایک مقام ہے، جو اس کا سب سے اونچا مقام ہے اور وہ مقام اللہ کے تمام بندوں میں سے صرف ایک بندے کو میسر ہوگا اور آپ نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی رہوں گا۔ دراصل آپ نے یہ بات بطور تواضع کہی ہے، کیوں کہ جب وہ اونچا مقام اللہ کے بس ایک ہی بندے کو میسر ہوگا، تو اللہ کا وہ ایک ہی بندہ آپ ہی ہوں گے۔ کیوں کہ آپ خیر الخلائق ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے اللہ سے وسیلہ مانگا، اسے آپ کی شفاعت نصیب ہوگی۔