اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عن قریب یہ دین روئے زمین کے تمام گوشوں میں پھیل جائے گا۔ جہاں بھی رات اور دن کا سلسلہ ہے، وہاں یہ دین پہنچ جائے گا۔ شہر و بستی اور دیہات و صحرا کا ایسا کوئی گھر باقی نہيں رہے گا، جہاں یہ دین پہنچ نہ جائے۔ لہذا جو اس دین کو قبول کرے گا اور اس پر ایمان رکھے گا، وہ اسلام کی طاقت کی برکت سے طاقت ور ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف جو اسے ٹھکرا دے گا، وہ رسوا اور ذلیل ہوگا۔ پھر صحابی تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بتائی ہوئی اس بات کا تجربہ انھیں خود اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوا۔ جو مسلمان ہو گئے، ان کو عزت ملی اور جنھوں نے کفر کیا، انھیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں مسلمانوں کو جو مال دینا پڑتا ہے وہ اس پر سوا ہے۔