عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر، قربانی کے دن، جمرہ عقبہ میں کنکر مارنے کی صبح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران آپ نے ان کو کچھ کنکر چن کر لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ انھوں نے سات کنکر چن کر پیش کیے۔ ہر کنکر چنے کے دانے کے برابر تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کنکروں کو اپنی ہتھیلی میں رکھ کر ہلایا اور فرمایا : اسی سائز کے پتھر مارا کرو۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دینی معاملوں میں غلو و تشدد سے کام لینے اور حد سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا۔ کیوں کہ دینی معاملوں میں یہی غلو، حد سے تجاوز، افراط اور انتہا پسندی نے پچھلی امتوں کو ہلاک کیا ہے۔