رسول اللہ ﷺ سے جادو کے علاج کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جیسے جاہلیت میں علاج کیا جاتاتھا مثلاً جادو کا علاج جادو کے ذریعے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ یہ شیطانی عمل ہے یا اس کے واسطے سے ہے کیوں کہ اس میں بہت ساری جادو کی اقسام اور شیطانی خدمات کا استعمال ہوتا ہے، لہذا یہ شرکیہ اور حرام عمل ہے۔ اور ’’جائز نشرہ‘‘ جادو کا ــــــــــ دم کے ذریعہ، یا اس کا کھوج کرکے توڑنا ہے، اسی طرح اسے ہاتھ کے ذریعہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ یا جائز ادویات سے توڑنا ہے۔